یہی حقیقت ہے کہ پاکستان نسیما زاھد

Pinterest LinkedIn Tumblr +

یہی حقیقت ہے کہ پاکستان، خصوصاً کراچی جیسے بڑے اور گنجان تجارتی شہر میں آتش زدگی کے واقعات کی بنیادی وجوہات اس کا حد درجہ تجارتی و کاروباری ہونا اور ایسے مواقع پر عوام کی بڑی تعداد کا موجود ہونا ہیں، کیونکہ بڑی تعداد میں عوام کا موجود ہونا اکثر جانی نقصان کا براہِ راست سبب بنتا ہے۔ جب کسی جگہ حد سے زیادہ رش ہو، ہنگامی اخراج کے راستے ناکافی ہوں، فائر سیفٹی کے انتظامات ناقص ہوں اور بجلی کے نظام میں خرابی ہو تو ایک معمولی حادثہ بھی بڑے سانحے میں بدل جاتا ہے۔ یہ وقت الزام تراشی (blaming game) کا نہیں۔ 1956 سے آج تک کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہری مراکز میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے، مگر افسوس کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سنجیدہ سبق نہیں سیکھا۔

ہماری ریاست اور حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے مؤثر فائر سیفٹی نظام، مناسب ہنگامی اخراجی انتظامات، اور برقی نظام کی باقاعدہ مانیٹرنگ کو یقینی بناتے۔ اسی طرح ان تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی جواب دہ بنایا جانا چاہیے جو لاکھوں اور کروڑوں کماتے ہیں مگر حفاظتی اقدامات کو اضافی خرچ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ 1956 سے آج تک کس حکومت نے ان نقصانات کے تدارک کے لیے سنجیدہ اور دیرپا اقدامات کیے؟

حقیقت یہ ہے کہ آج اس ملک میں ہر شخص اپنی حفاظت خود کر رہا ہے: اپنی سکیورٹی، اپنی بجلی، اپنا پانی، اپنا گیس کا بندوبست—یوں لگتا ہے جیسے پورا ملک “اپ سب کے تحت” چل رہا ہو۔ بھٹو سے لے کر عمران خان تک، اور عمران خان سے شریف خاندان تک—کس سیاسی خاندان نے حکمرانی کی بنیادی ذمہ داری واقعی نبھائی؟ سب نے صرف الزام تراشی کا کھیل کھیلا اور عوام کو الجھائے رکھا۔ سچ یہ ہے کہ ایک ہی حمام میں سب ننگے ہیں—اور جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، نہ جانیں محفوظ ہوں گی اور نہ ہی ملک۔

Share.

Leave A Reply