کیا پاکستان نے فلسطین کو بیچ دیا؟
ڈاکٹر اصغر دشتی
پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد “بورڈ آف پیس” جس کے چیئرمین خود ڈونلڈ ٹرمپ ہیں پر دستخط کر کے اس میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے بقول یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ غزہ میں پائیدار امن، مستقل جنگ بندی، انسانی امداد اور بعد از جنگ تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں۔
لیکن اصل سوال یہی ہے کہ یہ کیسا امن ہے، کس کی جنگ بندی ہے اور کس کے طے کردہ مفاد کے تحت؟
پاکستان کے سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار اس فیصلے کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی معجزہ قرار دیں گے اور اقوام عالم کے سامنے پاکستان کی سفارتی کرامات کا چرچا کریں گے۔ صحافی اور تجزیہ نگار مضامین میں لکھیں گے کہ پاکستان نے نہ صرف بین الاقوامی امن میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ایک ایسی اعلیٰ سفارتی مہارت بھی دکھائی جو دنیا کے لیے مثال ہے۔ صرف ہہی نہیں بلکہ یہ بھی بتایا جائے گا کہ یہ اقدام پاکستان کی عظیم سفارتی کامیابی ہے جس کے اثرات دیرپا ہوں گے اور جس نے عالمی سیاست میں پاکستان کی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ہر مضمون اور ہر تجزیہ میں زور دیا جائے گا کہ بورڈ آف پیس میں یہ شمولیت قومی فخر اور بین الاقوامی قدردانی کا سبب بنی ہے، اور پاکستان نے اس بورڈ کے ذریعے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ وہ فیصلہ سازی اور عالمی قیادت میں سب سے آگے ہے۔
غزہ کے حوالے سے پاکستان کی اس شمولیت پر اگر کوئی بھی عذر پیش کیا جائے تو یہ سچ کے ساتھ بددیانتی ہوگی۔ یہ کوئی سفارتی مجبوری یا وقتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اصولی موقف کا قتل عام ہے۔دفتر خارجہ کا ہر وہ بیان کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے مفاد میں ہے سچ کی توہین اور اصولی سیاست کی پامالی کے مترادف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ رضامندی کے ساتھ کی گئی ایک ایسی شمولیت ہے جس نے فلسطینی عوام کے بنیادی سیاسی، اخلاقی اور مزاحمتی مؤقف کو کمزور کردیا ہے۔ غزہ آج کسی “پوسٹ وار ری کنسٹرکشن پراجیکٹ” کا نام نہیں بلکہ ایک کھلی جیل، اجتماعی سزا اور جاری نسل کشی کی علامت ہے۔ ایسے میں غزہ کو ایک کارپوریٹ منصوبے بورڈ آف پیس جیسےغیر نمائندہ سامراجی ادارے کے تحت رکھنا دراصل فلسطینی مزاحمت کو دانستہ طور پر ختم کرنا ہے۔ جذباتی سطح سے ہٹ کر یہ سوال سیاسی اور اخلاقی طور پر بنیادی نوعیت کا ہے کہ
غزہ کے مستقبل کا فیصلہ کون کرے گا؟
وہ قوتیں جنہوں نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنایا؟ یا وہ ادارے جو بمباری کے بعد تعمیرِ نو کے ٹھیکوں کی فائلیں لے کر آتے ہیں؟
پاکستان کا اس “بورڈ آف پیس” پر دستخط کرنا بغیر اس واضح شرط کے کہ فلسطینی عوام ان کی منتخب قیادت اور ان کی مزاحمتی آواز اس پورے عمل کا مرکز اور حصہ ہوں عملی طور پر فلسطینی کاز سے غداری کے مترادف ہے۔ زبانی طور پر فلسطین کی حمایت اور عمل میں اس کی غیر سیاسی، غیر مزاحمتی تشکیلِ نو یہی وہ تضاد ہے جسے تاریخ خاموش غداری کے نام سے یاد رکھے گی۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں جنگ کے بعد سب سے پہلا سوال انصاف نہیں بلکہ کنٹریکٹس ہوتے ہیں۔ غزہ کی تعمیرِ نو کو بھی اربوں ڈالر کی ایک نئی مارکیٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کنسٹرکشن کمپنیاں، سیکیورٹی فرمز، لاجسٹک نیٹ ورکس، این جی اوز اور ملٹی نیشنل سرمایہ کار سب اس ملبے میں منافع تلاش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے گرد گھومنے والا یہ “بورڈ آف پیس” اسی کارپوریٹ امن کا ماڈل ہے جہاں جنگ سرمایہ کاری، تباہی موقع اور تعمیرِ نو ایک منافع بخش منصوبہ بن جاتی ہے۔
دی گارڈین کا اسے “pay-to-play club” کہنا محض صحافتی طنز نہیں بلکہ ایک سیاسی تشخیص ہے۔ ایک ایسا امن جس میں شمولیت کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے اور اثر و رسوخ اصولوں سے نہیں بلکہ ڈونرز لسٹ سے طے پاتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کا اس فریم ورک میں شامل ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ ریاست اب مظلوم کی نمائندہ بننے کے بجائے طاقتور کے طے کردہ معاشی کھیل کا حصہ بننے پر آمادہ ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی اصولی اور اخلاقی سیاست سے نکل کر محض کارپوریٹ مفاہمت میں بدل چکی ہے۔
اگر پائیدار امن کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کو انہی طاقتوں کی نگرانی میں “ری کنسٹرکٹ” کیا جائے جنہوں نے اس پر بم برسائے، اگر مستقل جنگ بندی کا مفہوم یہ ہے کہ مظلوم کو خاموش کروا کر قاتلوں اور قابضین کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اگر انسانی امداد کا راستہ انہی ممالک سے ہو جنہوں نے محاصرہ مسلط کیا تو یہ امن نہیں بلکہ منظم اطاعت ہے۔
فلسطینی عوام کے مفاد کا فیصلہ نہ تو ٹرمپ کے گرد بننے والے کسی بورڈ آف پیس کو کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی ان ریاستوں کو جو اسرائیلی جارحیت کے سامنے یا تو خاموش رہیں یا شریکِ جرم بنیں۔ فلسطینی مفاد کا واحد پیمانہ آزادی، خودمختاری اور مزاحمت کا حق ہےنہ کہ وہ تعمیرِ نو جس میں ملبہ تو ہٹ جائے مگر زنجیریں برقرار رہیں۔
غزہ کو انصاف چاہیے سرمایہ نہیں۔ غزہ کو آزادی چاہیے بورڈ نہیں۔ غزہ کو آواز چاہیے نمائشی امن نہیں۔ اگر پاکستان واقعی فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے تو اسے ایسے تمام فورمز کو مسترد کرنا ہوگا جو غزہ کو ایک کاروباری پروجیکٹ اور فلسطینیوں کو خاموش اسٹیک ہولڈرز میں بدل دیتے ہیں۔ ورنہ تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ پاکستان نے غزہ کے ملبے پر کھڑے ہو کر امن کے نام پر طاقتوروں کے منافع میں شراکت کی۔ اور یہ وہ فیصلہ ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔