خوشاب: بسمہ نورین کے خلاف درج جھوٹے مقدمات لاہور ہائیکورٹ سے خارج، فالس کیس ثابت

Pinterest LinkedIn Tumblr +

خوشاب: بسمہ نورین کے خلاف درج جھوٹے مقدمات لاہور ہائیکورٹ سے خارج، فالس کیس ثابت

خوشاب تھانہ جوہر سٹی میں انویسٹی گیٹو رپورٹر بسمہ نورین کے خلاف درج کیے گئے سنگین نوعیت کے جھوٹے مقدمات بالآخر لاہور ہائیکورٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں توہینِ رسالت، سولہ ایم پی او، خلفائے راشدین کی گستاخی، قتل کی دھمکیاں اور دیگر الزامات شامل تھے، جو عدالت میں جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بسمہ نورین کے خلاف درج کیے گئے دو مقدمات بدنیتی پر مبنی اور جھوٹے تھے، جس کے بعد عدالت نے انہیں ان الزامات سے بری کر دیا۔ جبکہ قتل کی دھمکیوں سے متعلق ایک مقدمے پر عدالت نے خوشاب ڈسٹرکٹ کورٹ کو 249-A کے تحت درخواست دائر کرنے کی ہدایت جاری کی، جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تیسرا مقدمہ بھی اسی جھوٹے مقدمات کی کڑی تھا۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ جھوٹے مقدمات درج کروانے والے شخص ملک الیاس اعوان کے خلاف قانونی کارروائی کی مکمل گنجائش موجود ہے، تاہم عدالت کی جانب سے اس حوالے سے بھی ریلیف دیا گیا۔

اہم سوال یہ ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود بسمہ نورین کی جانب سے جھوٹے مقدمات درج کروانے والے عناصر کے خلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جو انصاف کے تقاضوں اور قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق جھوٹے مقدمات نہ صرف ایک شہری کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عدالتی نظام پر بھی اضافی بوجھ بنتے ہیں، ایسے عناصر کے خلاف مثال قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

بسمہ نورین کا کہنا ہے کہ

“میں جانتی ہوں کہاں تک اڑان ہے ان کی،

یہ میرے ہاتھ سے نکلے ہوئے پرندے ہیں”

ان کا مزید کہنا تھا کہ سچائی اور قانون کے ذریعے ہر جھوٹ کو بے نقاب کیا جائے گا، اور صحافت کے نام پر دباؤ ڈالنے والوں کو بے نقاب کرنا ہی ان کا مشن ہے۔

انویسٹی گیٹو رپورٹر: بسمہ نورین

Share.

Leave A Reply