17فروری2026ء
حیدرآباد( )رمضان المبارک میں حیسکو کی ممکنہ لوڈشیڈنگ منصوبہ بندی مرمتی کاموں کے نام پر بجلی بندش کا خدشہ، نام نہاد سیاسی وسماجی حلقے مکمل خاموش تماشاہی، اطلاعات کے مطابق رمضان المبارک کی آمد سے قبل شہر میں بجلی کی ممکنہ بدترین لوڈشیڈنگ کے خدشات نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی حیسکو کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی بندش کو “مرمتی کام” کا نام دے کر نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، ذرائع کے مطابق رمضان کے دوران مختلف فیڈرز پر مرمت یا مینٹیننس کے نام پر طویل بندشیں کی جا سکتی ہیں سحر و افطار کے اوقات میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی کا خدشہ ہے بعض علاقوں میں غیر اعلانیہ بندش کو تکنیکی خرابی قرار دیا جا سکتا ہے اگرچہ مرمتی کام کسی بھی ادارے کی ذمہ داری کا حصہ ہوتے ہیں مگر سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ کام رمضان سے قبل مکمل نہیں کیے جا سکتے تھے؟، شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم اور رمضان المبارک کے دوران طویل لوڈشیڈنگ سے سحر و افطار کی تیاری متاثر ہوتی ہے مساجد میں عبادات میں مشکلات پیش آتی ہیں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور گھریلو صارفین شدید اذیت کا شکار ہوتے ہیں متعدد علاقوں میں پہلے ہی وولٹیج کی کمی اور ٹرپنگ کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، شہر میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ رمضان کے حساس مہینے میں ممکنہ لوڈشیڈنگ پر نام نہاد سماجی رہنما اور سیاسی جماعتیں خاموش کیوں ہیں؟ کیا انہیں پیشگی آگاہی ہے؟ یا عوامی مسئلے پر آواز اٹھانے میں دلچسپی کم ہو چکی ہے؟ شہری وسوسائٹی کیجانب سے یہ بھی سوال کیا جا رہا ہےکہ کیا واقعی رمضان میں مرمتی کاموں کے نام پر اضافی بندشیں کی جائیں گی؟ کیا یہ منصوبہ بندی شفاف ہے یا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوگی؟ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نیپرا اور وزارتِ توانائی کا کردار کیا ہوگا؟ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی نہ صرف انتظامی ذمہ داری بلکہ اخلاقی تقاضا بھی ہے۔ اگر ممکنہ لوڈشیڈنگ کے خدشات درست ہیں تو حیسکو انتظامیہ کو فوری وضاحت اور شفاف شیڈول جاری کرنا چاہیے تاکہ عوام غیر یقینی صورتحال سے نکل سکیں۔