احساسات!!!!!
بلاول زرداری، گل پلازہ اور حیدرآباد
رضوان احمد گدی
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے مسلسل اٹھارہ سال تقریباً مکمل ہونے پر اسلام آباد میں وفاقی کابینہ،غیر ملکی سفارتکاروں اور نامور صحافیوں کی موجودگی میں سندھ حکومت کے کارہائے کارنامے گنواتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سندھ پاکستان میں ترقی میں سب سے آگے ہے اور نمایاں بات انکی سندھ میں تعلیم و صحت کی سہولیات دیگر صوبوں سے بہت آگے ہیں اور سندھ حکومت نے ہر میدان میں ترقی و خوشحالی کا جال بچھا دیا ہے ابھی انکی بات کی گونج بھی نا تھمی تھی کہ کراچی میں کل گل پلازہ کی آتشزدگی کا سانحہ رونما ہو گیا جس پر کل سے حکومتی ناکافی اقدامات پر میڈیا میں خاصی گفتگو ہو رہی ہے میں صرف یہ کہوں گا کہ میگا پولیٹین سٹی میں جہاں ایسے ہزاروں پلازہ ہیں آپ اٹھارہ سال میں ایک مضبوط منظم فائر فائٹنگ سسٹم نہیں بنا سکے جو بروقت کارروائی کرتا اور عوام کے قیمتی جان و مال کو بچا پاتا اس پر پیپلز پارٹی کو تو افسوس ہو رہا ہو گا کہ 2016 سے پہلے والی ایم کیو ایم ہوتی تو آسانی سے الزام لگا کر کہ بھتے کی پرچی آئی تھی اور آگ لگا دی گئی باقی کام ایم کیو ایم مخالفین پورا کر دیتے اور کوئی انکی کرپشن اور نااہلی پر سوال نہیں اٹھاتا میں بلاول بھٹو زرداری صاحب کی اسلام آباد میں دی گئی پریزینٹیشن کے حوالے سے حیدرآباد کا موجودہ حالات بیان کرنے کی جسارت کروں گا انہوں کے مطابق سندھ میں صحت و تعلیم میں انقلابی اقدامات پر روشنی ڈالوں کہ حیدرآباد میں ابھی گزشتہ کچھ ماہ پہلے ڈینگی کی وباء آئی تو ناکافی طبی سہولیات کی بناء پر پاکستان بھر میں سب سے زیادہ اموات حیدرآباد میں ہوئیں حیدرآباد میں سول اسپتال پاکستان قائم ہونے سے بہت پہلے قائم ہوا اور اس وقت کی کم آبادی اور اندورن سندھ کی عوام علاج کے لئے حیدرآباد سول اسپتال آتے تھے آج پاکستان بننے کے 80 سال اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے 18 سال بعد بھی سول اسپتال حیدرآباد جائیں تو حیدرآباد سے زیادہ اندورن سندھ کی غریب عوام ہی علاج کے لئے دھکے کھاتے ملیں گے آج سول اسپتال کا جتنا بجٹ ہے وہ سب کا سب مختلف اوقات میں پیپلز پارٹی نے اپنے افسران لگا کر ہڑپ کر لیا وہ افسران یہاں سے اربوں پتی بن گئے لیکن آج بھی یہاں ایم آر آئی مشین، لفٹ مشینیں، ایکسرے مشین اور حتی کہ دوائیں تک دستیاب نہیں ہیں یہاں دھکے کھاتے پہنچتے لوگوں کو ایک ہی جملہ کہا جاتا ہے کہ مریض کو کراچی لے جاؤ حیدرآباد میں آتشزدگی کا واقعہ ہو تو جھلسے جانے والے افراد کو کراچی لے جانے کا کہا جاتا ہے حیدرآباد میں آج تک برن وارڈ قائم نہیں کیا جا سکا پریٹ آباد میں سلنڈر دھماکہ کے بعد حیدرآباد کے مرد، نوجوان،بچے صرف اس لئے جان کی بازی ہار گئے کہ یہاں سول اسپتال میں برن وارڈ اس قابل نہیں تھا کہ علاج ہو پاتا سول اسپتال میں وینٹیلیٹر انتہائی کم ہیں جہاں اندورن سندھ اور حیدرآباد کے مریض منتقل کئے جاتے ہیں اور نئے مریضوں کے لئے تگ و دو اور بڑی شفارش کے بعد ہی داخلہ ملتا ہے اور شنید ہے کہ بڑی شفارش آ جائے تو داخل مریض کو جلدی اوپر پہنچا کر بیڈ خالی کروایا جاتا ہے تا کہ سفارشی مریض کو داخل کیا جا سکے بلاول زرداری صاحب آپ کے دعوے اپنی جگہ آپ آج بھی حیدرآباد کو تو چھوڑیں اندورن سندھ کی عوام کو جو مسلسل پچاس سال سے بھٹو صاحب کے نام پر ووٹ دیتے آ رہے ہیں انہیں صحت کی سہولیات انکے شہروں میں نہیں دے سکے وہ غریب بیچارے یہاں قرض لیکر مہنگے کرائے لگا کر علاج کے لئے سول اسپتال میں دھکے کھاتے ہیں اور یہاں بھی کرپٹ انتظامیہ کی بدولت ناکافی سہولیات و ادوایات کی بناء پر جان کی بازی ہار دیتے ہیں اب آپ کے دعوے کے مطابق تعلیم پر آتے ہیں بلاشبہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت کو لا متناہی اختیارات مل گئے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اندورن سندھ سکھر، خیرپور، عمرکوٹ، بدین، جام شورو، دادو اور دیگر شہروں میں یونیورسٹی میڈیکل کالجز کا جال بچھا دیا اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں سے اربوں روپے رشوت لیکر انہیں سندھ بھر میں کیمپس قائم کرنے کی اجازت دی گئی جہاں غریب اور مڈل کلاس کا ذہین طاطبعلم تعلیم حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا بلاول زرداری صاحب آپ کی سندھ حکومت کی تعلیم دشمنی حیدرآباد سے آج بھی قائم ہے آج لیاقت میڈیکل کالج جام شورو میں پورے سندھ کے اضلاع کا کوٹہ ہے حیدرآباد کی 25 لاکھ آبادی کے لئے لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں طلبہ کے لئے صرف 80 نشستیں ہیں جبکہ اندورن سندھ آپ نے میڈیکل کالج قائم کر دئیے وہاں حیدرآباد کا کوٹہ نہیں رکھا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کی حیدرآباد سے متعصبانہ رویہ نہیں بدلا اس کا ثبوت کوھسار میں میڈیکل کالج کی عمارت تعمیر ہوئے کافی عرصہ بیت گیا وہاں کے انفراسٹرکچر کے لئے سامان اور اساتذہ کو آپ کے متعصب وزیر اعلیٰ و وزیر صحت نے سہون میں قائم نو تعمیر شدہ میڈیکل کالج منتقل کر دیا لیکن کوھسار میڈیکل کالج آج بھی جوں کا توں ہے اور آپ کی پالیسیوں میں مستقبل قریب میں بھی اس کے قائم ہونے کے کوئی چانس نہیں ہیں ان اٹھارہ سالوں میں حیدرآباد میں صرف ایک یونیورسٹی گورنمنٹ کالج کے 100 سال پورے ہونے پر قائم ہوئی اور اسے یونیورسٹی کا درجہ ملا اس یونیورسٹی کو گورنمنٹ کالج کالی موری میں ہی قائم کیا گیا اور اس میں بھی دو نمبری یہ کی گئی کہ سو سالہ گورنمنٹ کالج کا خاتمہ کر دیا گیا کالج کے اسٹاف کو یونیورسٹی اسٹاف میں تبدیل کر کے کالج ہی مکا دیا گیا یونیورسٹی کے لئے زمین ٹنڈو محمد خان روڈ پر مختص کی گئی لیکن وہاں آج 13 سال گزرنے کے باوجود صرف روڈ پر لگا ہوا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا بورڈ نظر آتا ہے حیدرآباد کے کالجز اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں رشوت شفارش کی بنیاد پر حیدرآباد سے باہر سے اساتذہ اور عملہ لایا جا رہا ہے اور یہاں کے مقامی اساتذہ اور عملہ کو جان بوجھ کر دور شہروں میں تبادلہ کیا جاتا ہے تا کہ یہ ملازمت کر نا سکیں یا انکی اولادیں اپنے ماں باپ کی تکالیف دیکھ کر مستقبل میں اس معزز پیشہ تعلیم کی طرف نا آئیں یہ سب اس لئے ہے کہ حیدرآباد جو کہ بھٹو صاحب کے آنے سے پہلے دوسرا بڑا شہر تھا لیکن یہاں کی اکثریتی عوام ایک مخصوص زبان بولنے والی ہے اور انہوں نے پیپلز پارٹی کی عوام دشمنی اور متعصبانہ پالیسیز کے باعث ووٹ نہیں دئیے تو آپ انہیں اپنی پالیسیوں کی بنیاد پر بدلہ لے رہے ہیں حالانکہ آپ چالبازیوں سے 50 سال میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کا مئیر لانے میں کامیاب ہوئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اب مئیر حیدرآباد اور آپ اپنے ووٹرز کے لئے سہولیات دیتے لیکن آج حیدرآباد کو صرف کمانے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے بدقسمت 25 لاکھ عوام کے شہر حیدرآباد میں پیپلز پارٹی کے تین وزراء شرجیل میمن، جام خان شورو اور جبار خان ہیں لیکن تینوں اپنے اپنے علاقوں میں کام کرواتے نظر آتے ہیں اور وہاں کی ہی عوام کو روزگار دیتے نظر آتے ہیں باقی حیدرآباد میں کوئی ایک پیسہ لگانے کو تیار نہیں اور ظالم بیوروکریسی افسران پولیس اپنے اقدامات سے عوام کے پاس ایک پیسہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں وفاقی شعبے حیسکو، سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ لوٹ مار کو چھوڑ کر بلاول زرداری صاحب آپ کے محکمے سندھ بلڈنگ کنٹرول، محکمہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ، پولیس، مختیار کار، رجسٹرار آفس، محکمہ تعلیم،بلدیہ حیدرآباد، سندھ پبلک سروس کمیشن کی کرپشن کی بدولت یہ شہر آج رہنے کے قابل نہیں رہا یہاں کی اکثریتی عوام نفسیاتی عوارض کا شکار ہے نوجوان طبقہ غیر یقینی مستقبل کے باعث مختلف نشوں، جوا کھیلنے کا شکار ہو رہا ہے یہاں کے افسران عوام کا خون چوس کر آپ کی صوبائی حکومت کے قائم کردہ *سسٹم* کے ذریعے سالانہ کروڑوں روپے تاجروں، عوام سے بٹورتے ہیں اور وہ کسی نا کسی ذریعے سے بلاول ہاؤس پہنچاتے ہیں آپ کی پیپلز پارٹی کے اکثر ذمہ دار، سرکاری افسران اور سسٹم کے لوگ راتوں رات ارب پتی ہو گئے ہیں لیکن حیدرآباد کی عوام آپ کی پالیسیوں کی بدولت دو وقت کی روٹی کے لئے ترس گئی ہے