امریکہ کیوں جنگ بندی چاہتا ہے؟
ڈاکٹر اصغر دشتی
کیا امریکہ کو لوگوں کے مرنے پر کوئی افسوس ہے؟ کیا وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سوچ رہا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ امریکہ کے لیے جنگ کبھی بھی انسانیت، اخلاق یا قانون کی بنیاد پر مسئلہ نہیں رہی بلکہ ہمیشہ سے سامراجی مفادات، عالمی مارکیٹ، وسائل پر قبضہ اور کارپوریٹ منافع کا کھیل رہی ہے۔
اب جب عالمی توانائی مارکیٹ اور بڑے کارپوریٹ سامراجی ادارے
TotalEnergies، Shell، ExxonMobil، Occidental Petroleum، Chevron، ConocoPhillips، BP، Abu Dubai National Oil Co , Saudi Aramco
اپنے CEOs کے ذریعے شدید دباؤ ڈالنے لگے ہیں تو امریکہ مجبوراً جنگ بندی کی طرف جا رہا ہے۔ تیل کی عالمی تجارت سے وابستہ ان سامراجی کمپنیوں نے امریکی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے طویل ہونے سے ان کے کارپوریٹ سامراجی منافع میں کمی اور نقصان بڑھ سکتا ہے اور یہی دباؤ اور مالی مفاد دراصل امریکہ کو عالمی معیشت، توانائی مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ نظام کے تسلسل و استحکام کے تحفظ کے لیے جنگ بندی پر مجبور کر رہا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کوئی بھی ریاست جیسے پاکستان، ترکی، مصر یا دیگر ممالک کا کردار، بیک ڈور چینلز یا مذاکرات وغیرہ صرف بین الاقوامی تعلقات میں پیش کی جانے والی ظاہری اور سطحی کہانیاں ہیں۔ یہ ریاستیں بھی سامراجی اور کارپوریٹ مفادات کے دباؤ کے تحت متحرک ہوتی ہیں نہ کہ امن کی خواہش یا کسی اصولی اور اخلاقی فیصلے کی وجہ سے۔ انہیں بظاہر اس طرح دکھایا جاتا ہے کہ جیسے وہ جنگ بندی چاہتی ہیں لیکن اصل فیصلہ ہمیشہ عالمی سرمایہ دارانہ اور کارپوریٹ مفادات کے تحت لیا جاتا ہے۔