ایک عجائب گھر آئٹم ؟

Pinterest LinkedIn Tumblr +

ایک عجائب گھر آئٹم ؟
جب سے پروفیشنلی ڈرائنگ بنانی شروع کی تب سے میں نے بہت بڑے بڑے کریکٹرز کو ڈرا کیا لیکن یہ ایک ایسا نمونہ ہے جس کو ڈرائنگ کرتے وقت پتہ نہیں کون سی طاقت میرے ہاتھ میں آ جاتی ہے کہ جب تک میں اس نمونے کو بہتر سے بہتر نہ بنا سکوں مجھے چین نہیں آتا کتنی دفعہ اس کو بنایا مجھے مزہ نہیں آیا میں نے اس کو دوبارہ بنایا ہے پھر بھی تشنگی رہ گئی میں نے اس کو تیسری دفعہ بنایا کیونکہ ٹائم کافی ہو چکا تھا میری ڈرائنگ کا میرا نیوز ایڈیٹر انتظار کر رہا تھا تو میں نے تیسری والی ڈرائنگ اپنے نیوز ایڈیٹر کے حوالے کرنے کیلے نیوز روم پہنچا اور اس کے حوالے کر کے اپنے اگلے ٹکانے کو جانے کی جلدی میں پہنچنا بہت ضروری تھا،
ایسا کریکٹر ہے جس کو دیکھ کر جس کو سن کر میں حیران بھی ہوتا ہوں اور پریشان بھی ہوتا اس کی حرکات و سکنات دیکھ کر اس کے ارد گرد کے لوگ اس کے خاندان کے لوگ اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ کیا اس سے یہ ساری نمونہ گیری کرواتے ہیں کیا یہ جو پاگل پن دنیا میں تھوپتا رہتا ہے کیا یہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتا کیا اس کو دنیا میں جہاں پہ انتہائی تھرڈ کلاس نہایت ہی کمینگی زدہ کام ہو رہے ہوتے ہیں بہت سارے وردی والے اپنے اسی ملک کے اصل مالک جو بیچارے نہتے عوام ہیں ان کو بندوق کی نوک پر جو ظلم کر رہے ہوتے ہیں ان کو دیکھ کر اس شخص کو نہ شرم آتی ہے اور نہ ہی اس کو کوئی حیا ہے کیونکہ عوام پہ اس ملک کے ڈکٹیٹروں کا ظلم دیکھ کر یہ شخص بہت خوش ہوتا ہے کیا ایسے بھی لوگ دنیا میں موجود ہیں جو دنیا کو دنیا میں ظالموں کے ہاتھوں ظلم سہتے ہوئے دیکھ کر اس کو خوشی ہوتی ہوگی عجب بات ہے بھئی،
سنا ہے کہ یہ کوئی بہت ہی بڑا سرمایہ دار ہے بہت پیسہ ہے اس کے پاس اس کے بارے میں ایسی ایسی فائلز کھل چکی ہیں لیکن اس ب شرم آدمی کو شرم نہیں آتی اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے دنیا کو ڈبونے چلا ہے کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہ پیدائشی ب شرم ہے اور کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ بہت ہی کمینہ کیوں ہے اس کی کمینگی واضح طور پر اس کی گفتگو میں اس کی حرکتوں میں نظر بھی آتی ہے اور یہ کئی دفعہ پریس کانفرنس کرتے کرتے سامنے والی ٹیبل پہ اس طرح سے گر گیا جیسے اس کو بہت نیند آئی ہوئی ہے اور ایسی نیند اسی کو آتی ہے جس نے یا تو سنگھاڑا لگایا یا پھر وہ پچھلی چار پانچ راتوں سے سویا ہی نا ہو کوئی شخص اس کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے گھر والے اس کے بارے میں اچھا سمجھتے ہو نگے بہت ترس آتا ہے کہ انسان اتنا بھی گرا ہوا نہ ہو کہ اپنی چند پرسنل وجوہات کی وجہ سے ساری دنیا کو اپنا باپ کا واڑا سمجھتا ہو ابھی کچھ ہی دن پہلے اپنے ملک کے قریبی کسی ملک میں دندناتا ہوا گھس گیا اور وہاں کے پریزیڈنٹ اور اس کی فیملی کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ اپنے ملک لے گیا اور اس کے ملک کی ساری قدرتی دولتوں پہ قابض ہو گیا حیران ہوتا ہوں کہ اس کے ملک کی ایڈمنسٹریشن ایسے شخص کو برداشت کیسے کرتی ہوگی یا شاید اس کی ملک کی ایڈمنسٹریشن ہی اس سے یہ سب کچھ کروا رہی ہے اور میں جب دیکھتا ہوں کہ اس کے اپنے ملک کے ہزاروں لاکھوں لوگ سڑکوں پہ ا کر اس ب شرم انسان کو بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن شرم ہے کہ کہیں ڈوب گئی ہے یا شاید یہ ب شرم ہی پیدا ہوا تھا کمال بات یہ ہے سات سمندر پار ٹھکانہ ہے اور اپنے شکار کو سات سمندر پار کر کے شکار کرنے جاتا ہے اور دوسرے لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کا شکار کرتا ہے ایسے جیسے یہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں یہ سب کچھ کر سکتا ہو میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا یہ اس کی بھول ہے جب یہ کہتا ہے کہ میں فلاں ملک کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو نیست و نابود کر دوں گا وہاں پہ تو مجھے یہ لگتا ہے کہ اس کی ایگو اتنی بڑی ہے کہ اس کو دنیا کے بڑے سے بڑے پاگل خانے میں بھی داخل کروایا جائے تو شاید اس کا دماغ ٹھیک نہیں ہوگا اس سے زیادہ میں کیا تعریف کروں باقی آپ خود سمجھ لیجیے کہ یہ اب اس دنیا سے کیا چاہتا ہے لیکن جو چاہتا ہے اس کو اس دفعہ نہیں مل سکے گا اس کی قسمت بھی بہت سارے مظلوم لوگوں کے ہاتھوں سے لکھی جا چکی ہے!

Share.

Leave A Reply