پاکستان تحریک انصاف کا دور اقتدار: عمران خان کی حکومت کی ناکامیاں اور کامیابیاں

Pinterest LinkedIn Tumblr +

پاکستان تحریک انصاف کا دور اقتدار: عمران خان کی حکومت کی ناکامیاں اور کامیابیاں

Pakistani students are angry at police brutality. And people slam Imran Khan online

اگست 2018 میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس دن غالبا کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ تقریبا ساڑھے تین سال بعد اسی ایوان میں جن افراد کے ووٹوں کی مدد سے انھوں نے اقتدار سنبھالا وہی لوگ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے حزب اختلاف سے ہاتھ ملا لیں گے اور وزیر اعظم اپنی ہی حکومت ختم کرنے کا قدم اٹھائیں گے۔

اس وقت پاکستان کی عوام کی ایک بڑی تعداد پر امید تھی کہ وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان اپنے متعدد وعدوں اور دعووں کو عملی جامہ پہنائیں گے جن کے تحت پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ، احتساب اور بیرون ملک سے کرپشن کے پیسے کی واپسی، بیرونی قرضوں میں کمی، اداروں خصوصا پولیس کی اصلاحات، جنوبی پنجاب صوبے، وزیر اعظم ہاوس میں یونیورسٹی کا قیام، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھروں کے ساتھ ساتھ ملک میں معاشی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہونا تھا۔

یہ تمام وعدے تو پورے نہیں ہو سکے اور خود وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وفاقی وزرا نے بھی کئی بار اعتراف کیا کہ الیکشن سے پہلے کے تمام وعدے وفا نہیں ہو سکے جس کی مختلف وجوہات بھی گنوائی جاتی ہیں۔ لیکن بطور وزیر اعظم عمران خان کا دور اقتدار کیسا تھا اور کن باتوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا؟

بی بی سی نے ماہرین کی مدد سے تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کا جائزہ لے کر یہ تعین کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کون سی کامیابیاں اور ناکامیاں تھیں جو عمران خان کی حکومت کی پہچان بنیں۔

Share.

Leave A Reply