پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کا المیہ!

Pinterest LinkedIn Tumblr +

پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کا المیہ!
ڈاکٹر اصغر دشتی
(وفاقی اردو یونیورسٹی ،کراچی )
پاکستان کے اعلیٰ ترین میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل گریجویٹس کا سب سے بڑا مسئلہ کم تنخواہوں، ہاؤس جاب کی پریشانیاں، کام کی زیادتی، تھکا دینے والی ڈیوٹی ٹائمنگ، ہیلتھ سیکٹر کا موجودہ انفرااسٹرکچر، ہسپتالوں کی صورتحال، ورکنگ انوائرمنٹ، محنت سے کام کرنے والے ڈاکٹرز کی حوصلہ شکنی یا انھیں نظر انداز کرنا۔ ٹیم سپورٹ کی عدم موجودگی , جاب ان سیکیورٹی تقرریوں اور ترقیوں میں سیاسی مداخلت اور سب سے بڑھ کر سوشل اور پروفیشنل ایڈجسٹمنٹ بن چکا ہے۔
پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کی ایک بہت بڑی تعداد بہتر تنخواہوں کے حصول، اپنی مالی حیثیت مستحکم کرنے،پروفیشنلزم ، جدید ترین ہسپتالوں میں کام کرنے ، ایڈوانس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے اور سیکھنے اور سوشل ایڈجسٹمنٹ کی خاطر امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جرمنی جانے اور وہاں پر اپنا مستقبل دیکھ رہی ہے جبکہ ایک اچھی خاصی تعدادخلیجی عرب ممالک میں اپنا مستقبل ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی میڈیکل گریجویٹس (یہاں پر وہ خواتین شامل نہیں جو MBBS کرکے گھر بیٹھ جاتی ہیں یا محض اچھے رشتہ یا شادی کی خاطر MBBS کرتی ہیں) پاکستان کا سماجی سرمایہ ہیں لیکن پاکستانی حکومتیں اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے خود اپنے ہاتھوں اس سماجی سرمایے کو ضائع کررہی ہیں۔
پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کے ملک چھوڑنے کے پیش نظر وہ سینیئر اسٹوڈنٹس اور ساتھی (Colleagues) بھی ایک رول ماڈل کے طور پر ہوتے ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں پریکٹس کرتے ہوئے مالی، سماجی، پیشہ وارانہ اور نفسیاتی طور پر ایک بہتر، خوشحال، آسودہ اور مطمئن زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ماضی میں PMC کی جانب سے پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کے بطور ڈاکٹر کام کرنے کے لیے لائسنس کے حصول کے لیے NLE جیسے قوانین نے بھی اسٹوڈنٹس کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیے رکھا, تاوقتیکہ اس قانون کو ختم نہ کیا گیا
پاکستانی میڈیکل گریجویٹس یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ میڈیکل کی مشکل ترین تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی پاکستان میں ان کا کوئی کیریئر یا مستقبل نہیں۔
پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کا یہ خوف اپنی جگہ درست ہے کہ وہ میڈیکل کی تعلیم کے بعد بھی پاکستان میں ایک ایوریج لائف گزارنے پر مجبور ہونگے۔ان کا سوشل اسٹیٹس بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور نا ہی وہ اپنے بچوں / خاندانوں کو بہت زیادہ آسائشیں یا ایک بہتر زندگی دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل کی تعلیم میں اسپیشلائزیشن کے مواقع بھی پاکستان میں بہت مشکل سے ملتے ہیں۔ خاص طور پر With pay اور Without pay تعلیمی چھٹیوں (Study leaves) کا پراسیس بہت ہی پیچیدہ ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں دی جانے والی میڈیکل ایجوکیشن اسٹوڈنٹس کو اسپتالوں کی حقیقی صورت حال میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں کرپاتی۔ پاکستان میں حاصل کی جانے والی میڈیکل ایجوکیشن اور اسپتالوں میں عملی طور پر کام کرنا ‘ دو الگ صورت حال ہیں۔ ہاسپٹل لائف میں کمیونیکیشن, مینجمنٹ, آرگنائزیشنل ایشوز اور دیگر مسائل سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فریش میڈیکل گریجویٹس اسپتالوں میں دوران کام اسٹریس, فرسٹریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں
یہ اطلاعات بھی گردش کررہی تھیں کہ پاکستانی میڈیکل گریجویٹس جنوری 2024ء کے بعد امریکہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں پریکٹس نہیں کرسکتے کیونکہ 2019ء میں PMDC کی تحلیل اور PMC کی تشکیل سے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوا تھا۔ PMDC نے ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن(WFME) سے ایکریڈیشن (Accrediation) حاصل کرنے کے لیے باضابطہ طور پر درخواست کی تھی تاہم PMDC کی تحلیل کے بعد نئی تشکیل پانے والی PMC نے WFME کا دورۂ پاکستان منسوخ کردیا تھا۔ 2023ء میں PMDC کو دوبارہ بحال کردیا گیا۔ پاکستان کے پاس ایکریڈیشن حاصل کرنے کی ڈیڈلائن جنوری 2024ء تک تھی۔ تاہم سننے میں آرہا ہے کہ 25 فروری 2024ء کو پاکستان ایکریڈیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اگر یہ ایکریڈیشن نہ ملتی تو یقیناً پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن چکا ہوتا۔ پاکستان میں ایک مضبوط، مربوط اور مؤثر ہیلتھ پالیسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ڈاکٹروں کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جائیں گی، انہیں اضافی مالی مراعات، جاب سیکیورٹی، بروقت پروموشن اور With pay اعلیٰ تعلیم / اسپیشلائزیشن کے مواقع نہیں دیئے جائیں گے تب تک پاکستانی میڈیکل گریجویٹس اپنا مستقبل ملک سے باہر ہی دیکھیں گے۔ اور وہ ایسا کرنے میں یقیناً حق بجانب بھی ہونگے۔

Share.

Leave A Reply