حالیہ امریکی حملوں کو ایران کی وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ملک کے جنوب میں ہونے والے امریکی حملوں کو ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر، خاص طور پر آرٹیکل ٹو اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال پر پابندی کے بنیادی اصول کی سنگین خلاف ورزی‘ کہا۔
بیان میں آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کا بھی ذکر کیا گیا تاہم اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
وزارتِ خارجہ نے خطے میں امریکی اڈوں اور اثاثوں کو ’جارحیت کا ذریعہ‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی کارروائیوں کو ’دفاع کا حق‘ قرار دیا۔
ایران نے علاقائی ممالک، بالخصوص خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں پر واقع ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور تنصیبات کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی منصوبہ بندی، تنظیم، عمل درآمد اور حمایت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔