ناکامیاں
احتساب

سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل احتساب تحریک انصاف کی انتخابی مہم کا ایک اہم حصہ تھا۔ حکومت میں آنے کے بعد قومی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ ملک کی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب ہو گا۔ لیکن یہ عمل متنازع اور سیاست کی نظر ہوتا نظر آیا۔ گرفتاریوں اور کیسز کا سلسلہ شروع ہوا تو اپوزیشن کی جانب سے جوابی الزامات لگے لیکن مجموعی طور پر کیسز منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے۔
وزیر اعظم عمران خان نے احتساب کے عمل کی ناکامی کا اعتراف خود بھی کیا۔ دو اپریل کو حکومتی اراکین سے عشایے کے دوران خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ’ہم نے بہت کوشش کی لیکن نیب اور عدالتیں ہمارے کنٹرول میں نہیں تھے۔ ‘
اس سے قبل یکم اپریل کو ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’انھوں (اپوزیشن) نے کیس مکمل نہیں ہونے دیے، کبھی پیش نہیں ہوتے تھے، کبھی کمر میں درد ہو جاتی تھی۔ سب سے زیادہ میرے لیے تکلیف دہ چیز تھی کہ احتساب کے عمل کو ڈس رپٹ کیا گیا، بچایا گیا ان کو، ڈیلز کے تحت۔ مجھے پتہ ہے جان کر ان کے کیسز پر تاخیر کی گئی۔ مجھے سب پتہ ہے، ہم بے بس بیٹھے ہوئےتھے۔ اب میں عوام سے کہوں گا کہ مجھے بھاری اکثریت دیں کیوں کہ کمزور اکثریت سے کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔ ‘
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی یکم اپریل کے دن پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘حکومت کا احتساب ایک فراڈ تھا، بدترین انتقام تھا۔ نیب کا کوئی ایک کیس بتا دیں جو منطقی انجام تک پہنچا ہو۔ ھمارے خلاف کمیشن بنائے گئے، ان کے نتائج کہاں ہیں، یہ ھمارے خلاف لندن اور پتہ نہیں کہاں کہاں گئے لیکن ان کو کچھ نہیں ملا۔’
اپوزیشن لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ‘اس حکومت کے دوران چینی،گندم، ادویات، گیس کے اربوں روپے کے سکینڈلز ہیں، وہ کہاں گئے۔’
صحافی عارفہ نور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے محاذ پر بری طرح ناکام ہوئی لیکن اس کی توقع بھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں احتساب کے عمل کو گہری نظر سے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ احتساب کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور تحریک انصاف کا دور بھی کچھ مختلف نہیں تھا۔
تجزیہ کار مشرف زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک میں کرپشن میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ انہوں نے حکومت کے دور میں منظر عام پر آنے والے چند بحرانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ چینی یا گندم سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔
صحافی فہد حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ الیکشن سے پہلے جو بھی تھا، حکومت میں آنے کے بعد اس بات کی ضرورت تھی کہ اپوزیشن سے کم از کم ایک بنیادی ورکنگ ریلیشن قائم ہو، سیاسی درجہ حرارت کم ہو تاکہ ریاستی معاملات چل سکیں۔ ‘اس سے حکومت کو اپنے اصل ایجنڈا پر کام کرنے کا بھی موقع ملتا لیکن ان کی توجہ گورننس اور ڈیلیوری سے ہٹ گئی اور غلط ہدف کا پیچھا کیا جاتا رہا جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔’