شہباز شریف: ٹکراؤ کے مخالف اور اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے حامی، نئے پاکستانی وزیرِاعظم

Pinterest LinkedIn Tumblr +

شہباز شریف: ٹکراؤ کے مخالف اور اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے حامی، نئے پاکستانی وزیرِاعظمشہباز شریف کا وزیراعظم کے طور پر پہلا دور صرف 16 ماہ تک محدود رہا۔ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ سے وزارتِ عظمی کی کرسی سے ہٹا کر جب وہ پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو ان کے بڑے بھائی نواز شریف ملک میں موجود نہیں تھے۔

تین بار کے سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں تھے اور اس وقت ان کی حیثیت ایک سزا یافتہ مجرم کی تھی جو انتخابات میں حصہ لینے یا کوئی سرکاری عہدہ رکھنے کے اہل نہیں تھے۔

تاہم اتوار کے روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے لیے ہونے والے ووٹ کے دوران جب شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے بیٹھے تھے تو نواز شریف بھی پاس ہی ایوان میں موجود تھے۔

نواز شریف قومی اسمبلی کے صرف ایک رُکن کے طور پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو دوسری مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم بنتے دیکھ رہے تھے۔ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی تاریخ میں ایسا منظر پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔

Share.

Leave A Reply