ایران کا میزائل سسٹم کتنا مؤثر ہے اور اس کی افواج کتنی طاقتور ہیں؟

Pinterest LinkedIn Tumblr +

سنیچر کی شب ایران نے دمشق میں اپنے قونصل خانے پر ہونے والے حملے کے جواب میں اسرائیل پر درجنوں میزائل اور خودکش ڈرونز داغے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے داغے گئے تمام تر میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے تاہم چند ٹکڑے اسرائیلی حدود میں گرنے کے باعث ایک فوجی اڈے کو معمولی نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک اسرائیلی بچی زخمی ہوئی ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نے نتن یاہو نے اس حملے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں اپنی سرزمین کا دفاع کرنے اور ایران کو مؤثر جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس رپورٹ میں ہم نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ ایران کی افواج کتنی طاقتور ہیں۔

ایران کی فوج کتنی بڑی ہے؟
ایک برطانوی تھنک ٹینک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کا کہنا ہے کہ ایران میں ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ 23 ہزار فوجی ہیں جن میں سے ساڑھے تین لاکھ روایتی فوج میں جبکہ ڈیڑھ لاکھ پاسدارانِ انقلاب میں ہیں۔

اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس میں 20 ہزار اہلکار بھی ہیں۔ اس گروہ کے اہلکار آبنائے ہرمز میں مسلح گشت کرتے رہتے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب ایک اور رضاکار گروہ بسیج کو بھی کنٹرول کرتا ہے جس نے ملک میں اندرونی مخالفت کو دبانے میں مدد کی تھی۔ اس گروہ میں ہزاروں افراد کو متحرک کرنے کی صلاحیت موجود ہیں۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سپاہی ایک فوجی پریڈ کے دوران مارچ کر رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے پاس اپنی بحریہ اور فضائیہ ہیں، جبکہ یہ فورس ایران کے سٹریٹجک ہتھیاروں پر بھی کنٹرول رکھتی ہے

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سپاہی ایک فوجی پریڈ کے دوران مارچ کر رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے پاس اپنی بحریہ اور فضائیہ ہیں، جبکہ یہ فورس ایران کے سٹریٹجک ہتھیاروں پر بھی کنٹرول رکھتی ہے
پاسدارانِ انقلاب کی بنیاد 40 سال پہلے رکھی گئی تاکہ ایران کے اسلامی نظام کا دفاع کیا جا سکے اور اب یہ اپنے آپ میں ایک بڑی فوجی، سیاسی اور اقتصادی طاقت بن گئی ہے۔

اگرچہ اس کے پاس عام فوج کے مقابلے میں کم اہلکار ہیں تاہم اسے ملک میں طاقتور ترین فوجی طاقت سمجھا جاتا ہے۔

ملک سے باہر کارروائیاں؟
قدس فورسز جس کی قیادت جنرل سلیمانی کرتے تھے پاسدارانِ انقلاب کے لیے ملک سے باہر کارروائیاں کرتی تھی اور اس کی رپورٹ براہِ راست رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو دی جاتی۔ اس میں اندازاً 5000 اہلکار ہیں۔

اس کا ایک یونٹ شام میں تعینات ہے جہاں وہ شامی صدر بشار الاسد کی حامی فورسز اور شیعہ ملیشیا کی مشاورت کرتا ہے۔ عراق میں یہ شیعہ اکثریتی پیراملٹری فورس کی حمایت کی جس نے شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کو ہرانے میں ساتھ دیا۔

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ قدس فورسز کا کردار اس سے کہیں زیادہ ہے اور وہ مشرق وسطیٰ میں ایسے تمام گروہوں کو مالی امداد، تربیت اور اسلحہ اور آلات فراہم کرتا ہے جنھیں امریکہ دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ ان میں لبنان کی حزب اللہ تحریک اور فلسطینی اسلامی جہاد شامل ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کی ایک کشتی برطانوی پرچم بردار بحری جہاز سٹینا امپیرو کے پاس گشت کر رہی ہے جسے سنہ 2019 میں ایران نے اپنے نرغے میں لے لیا تھا

پاسدارانِ انقلاب کی ایک کشتی برطانوی پرچم بردار بحری جہاز سٹینا امپیرو کے پاس گشت کر رہی ہے جسے سنہ 2019 میں ایران نے اپنے نرغے میں لے لیا تھا

اقتصادی مسائل اور پابندیوں کی وجہ سے ایران کی اسلحے کی درآمدات متاثر ہوئی ہیں جو خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ سنٹر کے مطابق سنہ 2009 سے 2018 کے درمیان ایران کی دفاعی نوعیت کی درآمدات سعودی عرب کی اسی دورانیے میں درآمدات کا صرف 3.5 فیصد حصہ ہی رہیں۔

ایران کی زیادہ تر درآمدات روس سے آتی ہیں اور باقی چین سے۔

کیا ایران کے پاس میزائلز ہیں؟

ایران کے بڑے مخالف یعنی اسرائیل کے مقابلے میں اس کی فضائی قوت نسبتاً کمزور ہے مگر ایران کی میزائل کی صلاحیت اس کی فوجی طاقت کا مرکزی جزو ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی میزائل قوت مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی ہے اور یہ بنیادی طور پر مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران خلائی ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہا ہے تاکہ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البرِاعظمی میزائل تیار کر سکے۔

مگر رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹوٹ تھنک ٹینک (روسی) کے مطابق 2015 میں دیگر ممالک کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے بعد ایران نے اپنے لانگ رینج میزائل پروگرام پر کام روک دیا تھا۔ مگر رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ معاہدے کے حوالے سے موجود غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اس نے یہ پروگرام دوبارہ شروع کر دیا ہو۔

مگر چاہے جو بھی ہو ایران کے موجودہ مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی رینج میں بڑے اہداف ہیں۔

سنہ 2020 میں امریکہ نے ایران کے ساتھ تناؤ میں اضافے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیٹریاٹ اینٹی میزائل ڈیفینس سسٹم نصب کیا تھا تاکہ بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور جدید ایرانی طیاروں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ایران کے پاس کون سے غیر روایتی ہتھیار ہیں؟

سالہا سال سے عائد پابندیوں کے باوجود ایران ڈرون صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

عراق میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں 2016 سے ایرانی ڈرون استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ روسی کے مطابق ایران شام میں اڈوں سے کنٹرول کیے جانے والے مسلح ڈرون بھی اسرائیلی فضائی حدود میں داخل کر چکا ہے۔

جون 2019 میں ایران نے ایک امریکی جاسوس ڈرون کو آبنائے ہُرمُز کے اوپر ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا دعویٰ کرتے ہوئے مار گرایا تھا۔

اس ڈرون کی باقیات جس کے بارے میں امریکہ کا الزام ہے کہ یہ ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کو فراہم کیا گیا تھا

اس ڈرون کی باقیات جس کے بارے میں امریکہ کا الزام ہے کہ یہ ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کو فراہم کیا گیا تھا
بی بی سی کے دفاعی اور سفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکس کہتے ہیں کہ ایران کے ڈرون پروگرام کا ایک اور رُخ یہ بھی ہے کہ وہ خطے میں اپنے اتحادیوں کو اپنی ڈرون ٹیکنالوجی فروخت یا منتقل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

سنہ 2019 میں ڈرون اور میزائل حملوں نے سعودی عرب کی دو اہم تیل تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ امریکہ اور سعودی عرب دونوں ہی نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا مگر تہران نے اس کی تردید کرتے ہوئے یمنی باغیوں کے ایک اعتراف کی جانب اشارہ کیا۔

کیا ایران کے پاس سائبر حملوں کی صلاحیت ہے؟
سنہ 2010 میں ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر ایک بڑے حملے کے بعد ایران نے اپنی سائبر صلاحیتوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔

مانا جاتا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے پاس اپنی سائبر کمانڈ ہے جو کمرشل اور عسکری جاسوسی پر کام کرتی ہے۔

اس کے علاوہ 2019 میں ایک امریکی ملٹری رپورٹ کے مطابق ایران نے دنیا بھر میں ایروسپیس کمپنیوں، دفاعی کنٹریکٹرز، توانائی اور قدرتی وسائل کی کمپنیوں، اور ٹیلی کام فرمز کو سائبر جاسوسی کے لیے نشانہ بنایا ہے۔

مائیکروسافٹ نے 2019 میں کہا تھا کہ ’ایران میں موجود اور ایرانی حکومت سے منسلک‘ ایک ہیکر گروہ نے امریکی صدارتی مہم کو نشانہ بنایا اور امریکی حکام کے اکاؤنٹس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

Share.

Leave A Reply