غزہ اسرائیل تنازع: حماس نے جنگ بندی کی شرائط قبول کر لیں ’معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں‘ اسرائیل

Pinterest LinkedIn Tumblr +

حماس کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کو تسلیم کر لیا ہے۔ ایک بیان میں حماس کا کہنا ہے کہ اس نے قطری اور مصری ثالثوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

حماس کی قیادت کا کہنا ہے کہ ’اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے‘

حماس نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن التھانی اور مصری انٹیلی جنس کے وزیر عباس کامل سے ٹیلیفون پر بات کی اور انھیں جنگ بندی کے معاہدے کے بارے میں حماس کی تجاویز اور شرائط کی منظوری کے متعلق آگاہ کیا ہے۔

حماس کے رہنما طاہر النونو نے خبررساں ادارے رؤٹرز کو بتایا کہ معاہدے کی شرائط میں جنگ بندی، غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے علاوہ بے گھر افراد کی واپسی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے۔

تاہم غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حماس کی قید میں موجود اسرائیلیوں کی رہائی بھی معاہدے کا حصہ ہو گی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈئینیل ہیگری نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ اسرائیل، حماس کی جانب سے جنگ بندی کے لیے قبول کیے گئے معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم ہر جواب اور ردعِمل کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں اور مذاکرت اور یرغمالیوں کی واپسی کے حوالے سے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اب بھی غزہ کی پٹی میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسے جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ حماس نے جنگ بندی کے لیے ’نرم شرائط‘ پر مبنی مصری تجاویز کو منظور کیا ہے جو اسرائیل کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ اس تجویز میں ایسے ’دور رس نتائج‘ شامل ہیں جن سے اسرائیل متفق نہیں ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کے مطابق امریکی حکومت حماس کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کا ’جائزہ‘ لے رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز بریفنگ کے آغاز میں کربی نے جاری جنگ بندی مذاکرات کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایسا کچھ بھی نہیں کہنا چاہتا جو اس عمل کو خطرے میں ڈال دے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ جنگ بندی پر ’کام کرنا بند نہیں کرے گی۔‘

ایک نامہ نگار کے پوچھے جانے پر کربی نے اس بات پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ حماس معاہدے کے کن پہلوؤں پر متفق ہے۔

ادھر غزہ میں حماس کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کو منظور کیے جانے کے بعد الاقصیٰ ہسپتال کے باہر فلسطینی شہریوں نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ لوگ حماس کی جانب سے شرائط منظور کیے جانے کے بعد خوشی سے نعرے بازی کر رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان بھی حماس کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط منظور کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

تاہم ابھی اس جنگ بندی معاہدے کی مکمل تفصیلات کا اعلان ہونا باقی ہے، لیکن یہ پیشرفت اس ،تنازعے میں گھرے لوگوں کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے سیکورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے اس پیش رفت پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے ثالثی زیادہ تر مصری قیادت میں ہوئی ہے جبکہ ان مذاکرات میں قطری حکام بھی شامل رہے ہیں۔

مصر کی سرحد غزہ سے ملتی ہے اور وہ خطے میں امن بحال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ مصر نہیں چاہتا کہ تشدد اس کی سرحدوں تک پھیلے، اس لیے مصری حکومت اور مصری انٹیلی جنس کے حکام جنگ بندی کے معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔

حماس عسکری طور پر کافی حد تک ہوشیار رہی ہے کیونکہ اس کے پاس 128 اسرائیلی یرغمالی ہیں، جن میں سے کم از کم 34 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں تاہم حماس اب بھی اسرائیل سے اچھی سودے بازی کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

میں ہر رات یہاں یروشلم میں احتجاج کرنے والوں کو دیکھتا ہوں جو احتجاج کے دوران بینرز لہراتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ’انھیں گھر لے آؤ‘ یا اسی طرح کے مطالبات درج ہوتے ہیں۔

رفح میں ’محدود‘ آپریشن کی تیاری، اسرائیلی فوج کا ایک لاکھ فلسطینیوں کو انخلا کا حکم

غزہ، رفح

اسرائیل کے اعلان بعد مشرقی رفح سے فلسطینیوں کا انخلا شروع ہو گیا ہے
یاد رہے اسرائیلی فوج نے مشرقی رفح کے مختلف علاقوں میں مقیم تقریباً ایک لاکھ فلسطینیوں کو انخلا کا حکم دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد رفح میں موجود فلسطینی خاندانوں نے وہاں سے نکلنا شروع کر دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ رفح میں اسرائیلی فوج کے آپریشن کے منصوبہ کا دائرہ کار ’محدود‘ ہے۔

فی الحال کسی ٹائم فریم کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق تقریباً ایک لاکھ افراد کو متاثر کرنے والے اس انخلا کے عمل پر مرحلہ وار طریقے سے عملدرآمد کروایا جائے گا۔

تاہم ان کے اس کے بیان کے باوجود رفح کے مقامی افراد اور وہاں مقیم 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں سہم کر رہ گئے ہیں۔ ان افراد کو اسرائیلی فوج کی جانب سے وسیع تر جارحیت کا خطرہ ہے۔

کئی مہینوں سے اسرائیلی وزایر اعظم بنیامن نتن یاہو اصرار کرتے آئے ہیں کہ جنگ میں کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک رفح میں حماس کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جاتا۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس کے بقیہ ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل چار بٹالین رفح میں چھپے ہوئے ہیں۔

مغربی اور عرب ممالک کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ نے بھی بارہا رفح میں بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کے درمیان اس معاملے میں کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں رفح میں زمینی کارروائی کے متبادل اور بہتر منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا انخلا کا یہ نیا منصوبہ ایسے کسی متبادل منصوبے کا حصہ ہے یا نہیں۔

’رفح میں کارروائی سے مغویوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے‘
دوسری جانب کچھ اسرائیلی مغویوں کے خاندانوں کی جانب سے رفح میں زمینی کارروائی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں ان کے پیاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

گل ڈک مین کی رشتہ دار 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے دوران ماری گئی تھیں جبکہ ان کے دو کزن یرغمال بنا لیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک کو تو رہا کر دیا گیا مگر دوسرا اب بھی حماس کی قید میں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ اسرائیلی فوج کے رفح میں داخل ہونے کے نتیجے میں نہ صرف بے گناہ افراد اور فوجیوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے بلکہ اس سے حماس کی قید میں موجود افراد کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘

غزہ کراسنگ پر حماس کے میزائل حملے میں تین اسرائیلی فوجی ہلاک
حماس کی جانب سے غزہ پٹی کے اندر سے راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیل نے کرم شالوم کراسینگ کو بند کر دیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک کو حماس کا ’ماؤتھ پیس‘ قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں اس کی نشریات بند کردی ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہا کہ کرم شالوم کراسینگ پر حملے میں تین اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

غزہ میں خوراک اور طبی سامان سمیت انسانی امداد پہنچانے کے چند راستوں میں سے ایک کرم شالوم کراسینگ ہے۔

حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اس نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے کرم شالوم کراسینگ پر اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے مطابق جنوبی غزہ میں رفح کراسنگ کے قریب ایک علاقے سے کرم شالوم کراسینگ پر 10 میزائل داغے گئے ہیں۔

آئی ڈی ایف کا کہنا کہ یہ میزائل ایک شہری پناہ گاہ سے 350 میٹر کے فاصلے سے فائر کیے گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جوابی کارروائی میں لانچر اور قریب ہی موجود ایک ملٹری سائٹ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

The armed wing of Hamas said it was responsible for rocket fire in the Kerem Shalom border are

حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے کرم شالوم کراسینگ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے
اسرائیل، حماس مذاکرات کا تازہ دور ختم
دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی اور حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مصر میں جاری مذاکرات کا تازہ دور ختم ہو گیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے مذاکرات کا دور اتوار کو ختم ہوا اور اب اس کا وفد اب گروپ کی قیادت سے مشاورت کے لیے قطر جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق ثالثی کی کوششوں میں شامل سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز بھی مزید بات چیت کے لیے مصری دارالحکومت سے دوحہ کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ جنگ بندی کی تجویز میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے لڑائی میں 40 دن کا وقفہ اور اسرائیلی جیلوں میں قید متعدد فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کی اس نئی تجویز کو ’مثبت روشنی‘ میں دیکھتے ہیں تاہم اب بھی مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا جنگ بندی کا معاہدہ مستقل بنیادوں پر ہوگا یا عارضی۔

گروپ اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ معاہدے میں جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی فیصلہ کیا جائے تاہم اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حماس کے مطالبات اسرائیلی ریاست کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایسی صورتحال کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں حماس کے جنگجو اپنے بنکروں سے باہر آئیں، دوبارہ غزہ کا کنٹرول حاصل کریں، اپنے فوجی ڈھانچے کی تعمیر نو کریں، اور جنوبی پہاڑوں کے اردگرد موجود بستیوں اور باقی اسرائیل کے شہریوں کو دھمکیاں دیں۔‘

’یہ اسرائیل کے لیے ایک خوفناک شکست تصور کی جائے گی۔‘

Share.

Leave A Reply